Who was Genghis Khan & The Mongol Empire Documentary

Who was Genghis Khan & The Mongol Empire Documentary

Who was Genghis Khan & The Mongol Empire Documentary

تاریخ کے سب سے ظالم حکمران کی کہانی کا آغاز ایک ایسے لمحے سے ہوا جب وہ محض 13 سال کا تھا۔ ایک دن اس نے اپنے بڑے بھائی کو گوشت چراتے ہوئے دیکھا، جبکہ ان دنوں اس کا قبیلہ قحط سالی کی وجہ سے بھوک سے مر رہا تھا۔ وہ گوشت اس وقت قبیلے کے زندہ رہنے کا واحد ذریعہ تھا۔بڑے بھائی کو شکار کا گوشت چراتے دیکھ کر وہ غصے سے بھڑک اٹھا۔ اس نے کمان اٹھائی، اپنے 16 سالہ بھائی پر نشانہ باندھا اور اسے جان سے مار ڈالا۔جب قبیلے والوں نے یہ منظر دیکھا تو وہ خوفزدہ ہو گئے اور سمجھ گئے کہ یہ بچہ بڑا ہو کر ایک بے رحم اور خطرناک انسان بنے گا۔ یہی لڑکا تاریخ کا سب سے ظالم حکمران بنا، جسے ہم آج چنگیز خان کے نام سے جانتے ہیں۔آج کی ویڈیو میں ہم آپ کو ایک ایسے خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھنے والے لڑکے کی کہانی سنائیں گے، جس کے ظلم اور سفاکی نے دنیا بھر میں اس کا خوف پھیلا دیا۔ سبسکرائب بٹن پر کلک کرنا مت بھولیے، کیونکہ یہ کہانی آپ کو حیرت کے ایک ایسے سفر پر لے جائے گی جسے سن کر تاریخ آج بھی کانپ اٹھتی ہے۔وہ 26 سال کی عمر میں اپنے قبیلے کا سردار بنا اور 65 سال کی عمر تک وہ دنیا کی سب سے بڑی زمینی سلطنت کا حکمران بن چکا تھا۔ صرف 25 سالوں میں منگول فوج نے اتنی زمینیں فتح کیں جتنی رومن سلطنت 400 سال میں بھی فتح نہ کر سکی۔چنگیز خان کا اصل نام تیموجن تھا۔ وہ 1162 میں منگولیا کے ایک مقامی قبیلے کے سردار کے گھر پیدا ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ پیدا ہوا تو اس کی مٹھی میں خون کا لوتھڑا تھا، جسے اس بات کی نشانی سمجھا گیا کہ یہ بچہ آگے چل کر ایک عظیم جنگجو بنے گا۔تیموجن کی زندگی شروع ہی سے مشکلات اور سخت حالات سے بھری ہوئی تھی۔ جب وہ صرف 9 سال کا تھا تو اس کے والد کو ایک مخالف قبیلے نے زہر دے کر مار ڈالا۔ والد کی موت کے بعد قبیلے کے لوگوں نے اس کے خاندان سے منہ موڑ لیا، کیونکہ منگول قبائل صرف طاقتور شخص کا ساتھ دیتے تھے۔ نتیجتاً تیموجن، اس کی ماں اور بہن بھائیوں کو جنگلوں اور پہاڑوں میں شدید سردی اور بھوک کے عالم میں اکیلے زندگی گزارنی پڑی۔13 سال کی عمر میں بڑے بھائی کے قتل کے بعد قریبی لوگوں نے اس کی جرأت اور مضبوط فیصلوں کو دیکھا اور قبیلے سے نکالے گئے افراد آہستہ آہستہ اس کی قیادت پر اعتماد کرنے لگے۔ کچھ ہی برسوں میں وہ اپنے بچپن کے دوست جاموکا کے ساتھ مل کر قبیلے کی رہنمائی کرنے لگا۔????تیموجن نے جلد ہی سمجھ لیا کہ اس کا چھوٹا سا قبیلہ اکیلا کسی بڑے دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اگر اسے طاقتور بننا ہے تو دوسرے قبائل کے ساتھ اتحاد ضروری ہے۔ اسی سوچ کے تحت اس نے ایک طاقتور قبیلے کی لڑکی بورتے سے شادی کی۔بورتے نہ صرف اس کی زندگی کی مضبوط ساتھی بنی بلکہ اس شادی کے نتیجے میں اسے ایک وفادار جنگجو دستہ بھی ملا جو ہر حال میں اس کے ساتھ کھڑا رہا۔شادی کے کچھ ہی عرصے بعد مرکت نامی مخالف قبیلے نے اچانک تیموجن کے کیمپ پر حملہ کر دیا اور اس کی بیوی بورتے کو اغوا کر لیا۔ تیموجن اور جاموکا بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگے اور ایک قریبی سردار کے پاس پناہ لی۔اس سردار کی مدد سے تیموجن نے 20 ہزار فوج جمع کی اور مرکت قبیلے پر حملہ کر کے سخت جنگ کے بعد اپنی بیوی کو آزاد کرا لیا۔وقت کے ساتھ تیموجن اور جاموکا کے درمیان نظریاتی اختلافات بڑھتے گئے اور قبیلہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ دو سال بعد جاموکا نے تیموجن کے قبیلے پر حملہ کیا اور اس کے 70 ساتھیوں کو کھولتے پانی میں ڈال کر قتل کر دیا۔یہ ظلم دیکھ کر تیموجن کے دل میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ بالآخر ایک فیصلہ کن جنگ میں تیموجن نے جاموکا کو شکست دی۔ بعد میں جاموکا کو اس کے اپنے لوگوں نے قیدی بنا کر تیموجن کے سامنے پیش کر دیا۔ تیموجن نے اسے عزت کے ساتھ موت دینے کا حکم دیا۔1206 میں تمام منگول قبائل نے متفقہ طور پر تیموجن کو چنگیز خان کا لقب دیا، جس کا مطلب تھا: دنیا پر حکمرانی کرنے والا۔اس کے بعد اس نے چین، وسطی ایشیا، خوارزم، ایران، خراسان، روس اور قفقاز تک اپنی فتوحات کا دائرہ پھیلا دیا۔ بخارا، سمرقند، نیشاپور، مرو جیسے عظیم شہر اس کے ظلم کا نشانہ بنے۔ لاکھوں بے گناہ قتل ہوئے، شہر ویران ہو گئے اور تاریخ خون میں نہا گئی۔زندگی کے آخری برسوں میں اس نے دوبارہ چین کا رخ کیا۔ 1227 میں شکار کے دوران گھوڑے سے گر کر بیمار ہوا اور اسی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کی موت کو خفیہ رکھا گیا اور اس کی قبر آج تک معلوم نہیں ہو سکی۔چنگیز خان کے بعد اس کی سلطنت اس کے بیٹوں اور پوتوں میں تقسیم ہو گئی۔ قبلائی خان نے چین میں یوان سلطنت قائم کی، باتو خان نے روس میں گولڈن ہورڈ کی بنیاد رکھی اور ہلاکو خان نے بغداد پر قبضہ کیا۔ایک سائنسی تحقیق کے مطابق آج دنیا کے ہر 200 میں سے ایک انسان چنگیز خان کی اولاد میں سے ہے۔

Hindi moral story,Urdu moral story,moral story in Hindi Urdu,Urdu kahani,Hindi kahani,motivational story in Hindi,motivational story in Urdu,Hindi love story,Urdu horror story,Hindi horror story,sachi Kahani,Sacha waqia,Pakistani Kahani,moral story,sad story,old story,Islamic cartoon in Hindi Urdu,love story,purane kisse,

Who was Genghis Khan & The Mongol Empire Documentary
Who was Genghis Khan & The Mongol Empire Documentary

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *